|
امریکی
معاشرے کو اسلام کا پیغام امن بتائیں
click here for pdf
نیویارک(انٹرویو ) پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں 95 فیصد
بیرونی عناصر ملوث ہیں۔ صرف پانچ فیصد اندرون ملک افراد یا تنظیمیں
ملوث ہوسکتے ہیں ۔ایجنسیوں کی جنگ بھی دہشت گردی کی وجہ ہو سکتی ہے اس
کے علاوہ انڈیا جیسا ملک ہمارے پڑوس میں ہے جس نے آج تک پاکستان کو دل
سے تسلیم نہیں کیا۔ان خیالات کا اظہار جماعت اہلسنت پاکستان کے مرکزی
جنرل سیکرٹری معروف عالم دین مفکر اسلام مفسر قرآن حضرت علامہ پیر سید
ریاض حسین شاہ صاحب سرپرست اعلیٰ ادارہ تعلیمات اسلامیہ نے ''پاکستان
پوسٹ '' کے ساتھ خصوصی انٹر ویو کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ شروع سے
ہی پاکستان کی مخالفت کی جاتی رہی ہے۔
سرحد میں بھی کچھ مخالفین تھے جو آج بھی پاکستان کے مخالف ہیں انہیں
کبھی کنٹرول نہیں کیا گیا۔20-25 سال پہلے والے مسلم لیگی اس بات سے
واقف تھے اور المیہ ہے کہ آج بھی مصلحتوں کے تحت پاکستان کے مخالفین کو
ساتھ بٹھایا جا رہا ہے۔میرے نزدیک ان کے ساتھ سخت معاملہ کرنے کی ضرورت
ہے۔قبلہ
سید ریاض حسین شاہ صا حب نے کہا کہ جمعیت
علمائے ہند نے پاکستان کی مخالفت کی تھی۔پیپلز پارٹی حکومت کے اتحادی
مولانا فضل الرحمن کے والد نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کی ''پ'' بھی نہیں
بننے دینگے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سر خیل ولی خان کے گھرانے نے بھی دل سے پاکستان
کو تسلیم نہیں کیا آج بھی وہ پاکستانیت کی بات نہیں کرتے۔ایک سوال کے
جواب میں قبلہ ریاض حسین شاہ
صاحب نے کہا کہ امریکہ نے 80کے اوائل میں روس کے خلاف جنگ میں
30ہزار سے زائد مجاہدین کو تیار کیا انہیں بھرپور ٹریننگ دی۔یہ لوگ
مغرب کے پروردہ ہیں آج ہمارے لئے مصیبت بنے ہوئے ہیں۔
قبلہ سید
ریاض حسین شاہ صا حب نے کہا کہ اس بات پرغور
کرنے کی ضرورت ہے کہ ڈرون حملوں میں مارے جانیوالے بعض ایسے لوگوں کا
انکشا ف ہوا جو کتے اور بلی خور تھے۔ مسلمان تو ایسا تصور بھی نہیں کر
سکتے اس کا مطلب ہے وہاں غیر مسلم عناصر بھی کار فرما ہیں۔ جب تک
بیرونی سازشیں کرنیوالے انڈیا کونہیں روکتے ہمارے لوگ بھی مصلحت کا
شکار ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں جماعت اہلسنت کے سیکرٹری جنرل نے کہا
پاکستان میں دہشت گردی کے پے در پے وارداتوں کے بعد اس بات کی ضرورت
بڑھ گئی ہے کہ ہمارے ہاں موثر ترین تھنک ٹینکس کا قیام عمل میں لایا
جائے عوام کو ساتھ لئے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔
ہمارے حکمران گذشتہ ساٹھ سال سے عاقبت نا اندیشی سے کام لے رہے ہیں
۔جنگ میں کامیابی کے لئے پوری قوم کو یکساں ہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے
کہا کہ مسلمان کو مغرب کا مقابلہ کر نے کے لئے میڈیا کو مستحکم کرنا
ہوگا آج میڈیا کی جنگ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ فوجی حکومت کبھی مسائل حل
نہیں کر سکتی ہمیں جو مسائل در پیش ہیں انہی کے پیدا کردہ ہیں ۔انہوں
نے کہا کہ پاکستان کے اندر انجینئر ڈ الیکشن کی پریکٹس ختم ہونی
چاہیئے۔اس سلسلے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ 2008کے
الیکشن کو بھی انجینئرڈ سمجھتے ہیں ۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو کچھ عرصے
کے لئے قومی حکومت بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ مذہبی جماعتیں ملک کی تیسری بڑی طاقت ہیں انہیں ختم
کرنے کے لئے انجینئرڈ الیکشن کروائے جاتے ہیں اگر منصفانہ الیکشن ہوں
تو مذہبی طبقات آگے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام حب الوطنی
سے سر شار ہیں مسلسل منصفانہ الیکشن ہوں تو جلد ہی مذہبی لوگ آجائیں
گے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی اصل وجہ ان کے نزدیک یہودیوں کی سازش ہے
نہ کہ بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا جائے۔
قبلہ ریاض حسین شاہ صاحب
نے کہا کہ دہشت گرد خواہ کسی بھی مذہب کے ہوں انہیں دہشت گرد ہی
دیکھا جائے گا۔انہوں نے کہا ہمارے ہاں مذہبی لیڈروں سے مشورہ لینا جرم
تصور کیا جاتا ہے۔دورہ امریکہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکہ میں
مسلمانوں کو یہاں کے آئین اور قانون کے تحت ادارے قائم کرنے
چاہیئے۔مذہبی اور دنیاوی تعلیم دونوں کو ساتھ
لیکر آگے بڑھنا چاہیئے۔دینی مدارس کو بامقصد بنانے کی کوشش کرنی
چاہیئے۔
انہوں نے کہا میری نزدیک جتنے ادارے یہاں
(امریکہ ) میں قائم ہونے چاہئیں تھے نہیں ہوئے۔ہمارے بچے کلچرل ضروریات
کو سمجھتے ہیں اورنہ ادارے ان کے لئے کچھ کرتے ہیں ۔قبلہ
سید ریاض حسین شاہ صا حب نے کہا کہ ہم پیارے
نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے
اسوہ حسنہ پر عمل کر کے ہی کامیاب و کامران ہو سکتے ہیں۔ انہوں
نے کہا کہ کیپٹل ہل میں جشن عید میلاد النبی
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سلسلہ میں تقریب کے انعقاد کو سنگ
میل قرار دیا اور کہا کہ انٹر نیشنل پیس فائونڈیشن نے جو پودا لگا یا
ہے۔
انشاء اﷲوہ آگے جا کر ایک تناور درخت بن جائے گا۔انہوں
نے کہا کہ ہمیں امریکی معاشرے کی اعلیٰ قدروں
کو اپنانا چاہیئے۔امریکہ ہویا پاکستان ہم انسانی برادری کا حصہ
ہیں مسلمانوں کو اول روز ہی سے دہشت اور چنگیزیت کا سامنا ہے۔کوئی مانے
یا نہ مانے بیرونی طاقتیں ملک کو خراب کر رہی
ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس کو سمجھنے میں ہم سے جو غلطیاں سرزد ہوئی ہیں
اور دنیا نے جو غلط نظریات قائم کیے ہیں ہمیں دلائل اور استدلال کے
ساتھ دنا کو اپنا مؤقف پیش کرنا ہوگا۔
اسلام بنیادی طور پر امن کا مذہب اور اسلام کا مطلب ہی امن کے ہیں۔
ہمیں دنیا کو یہ بات سمجھانی ہوگی۔
قبلہ ریاض
حسین شاہ صاحب نے آخر میں کہا کہ امریکہ میں بسنے والے
مسلمان خصوصاً پاکستانی یہاں اپنے ملک کے سفیر ہیں۔ گناہوں سے اجتناب
کریں اپنے اعمال صالح رکھیں اور امریکی معاشرے کو اسلام کا پیغام امن
بتائیں۔
2009-04-17
تحریر: محمد ارشد |